13 اکتوبر 2026 - 09:42
پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے، علامہ سید جواد نقوی

تحریک بیداری امت مصطفیٰؐ کے سربراہ حجۃ الاسلام سید جواد نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف فوجی محاذ تک محدود نہیں، بلکہ یہ نظریات، فکر اور بیانیے کی جنگ بھی ہے، جس میں میڈیا، مذہبی جماعتوں، جامعات، اساتذہ، محققین، دانشوروں، شاعروں اور ادیبوں کو فوج اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

اہل بیت نیوز ایجنسی (ابنا) کے مطابق، سید جواد نقوی نے پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف متحدہ اور جامع جدوجہد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی، فرقہ واریت اور تکفیریت الگ الگ مسائل نہیں، بلکہ یہ خوارجیت کے مختلف مظاہر ہیں۔ ان کے خلاف مؤثر کارروائی پاکستان میں امن، سلامتی اور ترقی کے قیام کے لیے ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پر مسلط کی گئی دہشت گردی کی جنگ دراصل خود پاکستان کی جنگ ہے، اس لیے پوری قوم کو متحد ہوکر اس کا مقابلہ کرنا چاہیے اور اس سلسلے میں حکومت اور سکیورٹی اداروں کی حمایت کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق، دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں عوام کا کردار ہتھیار اٹھانا نہیں، بلکہ اخلاقی، اعتقادی، فکری، تبلیغی اور تحقیقی میدانوں میں اپنا حصہ ڈالنا ہے۔

سید جواد نقوی نے مزید کہا کہ دہشت گردی کی پرورش کرنے والے مراکز کی نشاندہی، اس کے فکری اسباب کا جائزہ اور ان عناصر کی شناخت ضروری ہے جو اس رجحان کی حمایت کرتے ہیں۔ ان کے بقول، دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی کے لیے اس کے بنیادی نظریات اور معاون حلقوں کو سمجھنا اور ان کا علمی و فکری سطح پر مقابلہ کرنا ناگزیر ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیے کی تشکیل میں میڈیا، مذہبی حلقوں، جامعات، اساتذہ، محققین، دانشوروں، شاعروں اور ادیبوں کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق، حکومت کے سرکاری مؤقف کو مضبوط بنانے کے لیے علمی، فکری اور تحقیقی بنیادوں پر کام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ اہلِ علم مطالعے، تحقیق، استدلال اور واضح مؤقف کے ذریعے عوامی رائے کی رہنمائی کرسکیں۔

تحریک بیداری امت مصطفیٰؐ کے سربراہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ محض رسمی کمیٹیاں بنانے پر اکتفا کرنے کے بجائے سنجیدہ، ماہر اور مؤثر شخصیات کو عملی میدان میں آگے لائے۔ انہوں نے کہا کہ اہلِ فکر و دانش کو کام کرنے کے مواقع، اعتماد اور احترام فراہم کرکے دہشت گردی کے خلاف ایک مؤثر قومی بیانیہ تشکیل دیا جاسکتا ہے۔

سید جواد نقوی نے آخر میں کہا کہ پاکستان سے دہشت گردی کا خاتمہ صرف حکومتی اقدامات اور سکیورٹی کارروائیوں سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے فکری اور اعتقادی محاذ پر بھی سنجیدہ جدوجہد ضروری ہے۔ ان کے مطابق، سکیورٹی اداروں کی کارروائیوں کے ساتھ دہشت گردی کے نظریاتی اسباب اور اس کی پشت پناہی کرنے والے حلقوں کی شناخت اور ان کا مقابلہ بھی کیا جانا چاہیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha